(قعدہ اولی میں مقتدی نے درود پڑھاتوکیاحکم ہے؟)
(السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مقتدی چار رکعت والی فرض نماز (جیسے ظہر، عصر یا عشاء) کے قعدہ اولیٰ میں تشہد (التحیات) کے بعد بھول کر "اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ" یا اس سے آگے درود شریف پڑھ لیا اب مقتدی کے لئے کیا حکم ہے نماز ہوگی یا نہیں
جواب عنایت فرما کر مہربانی کریں
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب،
صورت مسئولہ میں نماز ہو گئی، اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سے بھول سے کسی واجب کے فوت ہو جانے سے سے نماز میں کراہت یا کسی طرح کا کوئی نقصان لازم نہیں آتا ،نماز ہو جاتی ہے ، کیونکہ مقتدی کی نماز میں بھول چوک کا ضامن امام ہوتا ہے،
البتہ اگر قصداً واجب کو چھوڑتا تو نماز کا اعادہ واجب ہوتا ۔
امام کے پیچھے بھولے سے مقتدی سے کوئی غلطی ہو جایے تو اس کا ضامن امام ہوتا ہے جیسا کہ امام حسن بن عمار شرنبلالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کے متعلق ایک حدیث پاک نقل فرمائی ہے ""۔الامام لکم ضامن یرفع عنکم سھوکم وقراءتکم "کہ امام تمہارا ضامن ہے وہ تم سے تمہارے سہو اور تمہاری قراءت کو اٹھا دیتا ہے ۔( مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، کتاب الصلوۃ، باب سجود السھو، ص 464 ، مطبوعہ دار الکتاب دیوبند)
مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ "" امام کے پیچھے اگر مقتدی سے سہوا یا قصدا کوئی واجب چھوٹ گیا مثلا تشہد نہیں پڑھا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟ آپ نے جواب میں فرمایا۔"" کسی واجب کو قصداً جان بوجھ کر امام کے پیچھے چھوڑنے سے نماز دوبارہ پڑھنا ہوگی اور اگر امام کے پیچھے سہوا بھول سے کوئی واجب چھوٹ گیا تو پھر سجدہِ سہو واجب نہ ہوگا اور نماز ہو جائے گی (وقار الفتاوی جلد دوم جماعت کا بیان,ص 210 مطبوعہ بزم وقار الدین کراچی)
لہذا مذکورہ صورت میں چار رکعت والی نماز میں امام کے پیچھے بھولے سے مقتدی کے قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد درود شریف اللھم صل علی محمد تک یا مکمل دردو شریف پڑھنے سے نماز ہوگئی ۔واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد ایاز حسین تسلیمی
بریلی شریف ۔
ایک تبصرہ شائع کریں